اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بالٹی مور کاؤنٹی کے تعلیمی بورڈ کی رکن میگی لِٹز دومانوفسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک ایسی پوسٹ دوبارہ شیئر کی تھی جس میں اسلامی شریعت کو خواتین کے حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
اس پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص ’’ماگا‘‘ تحریک کے ذریعے خواتین کے حقوق ختم کیے جانے کے خدشے میں مبتلا ہے تو اسے اسلامی شریعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ دومانوفسکی نے اس پیغام کی تائید کرتے ہوئے اسے ’’غلط نہیں‘‘ قرار دیا تھا۔
اس اقدام پر مسلمان خاندانوں اور اسلامی برادری کے رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ امریکی شیعہ مسلمانوں کی تنظیم نے بالٹی مور کاؤنٹی کے تعلیمی بورڈ میں باضابطہ شکایت درج کراتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود نہیں، بلکہ سرکاری اسکولوں کی ذمہ دار منتخب عہدیدار کے بیانات مسلمان طلبہ اور تعلیمی ماحول پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
تنظیم نے اپنی شکایت میں خبردار کیا کہ اسلام کو ایک خطرناک مذہب کے طور پر پیش کرنے سے مسلمانوں کے بارے میں منفی تصورات، مذاق، سماجی دوری اور مسلمان بچوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ بالٹی مور کاؤنٹی کے سرکاری اسکولوں میں مسلمان طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن میں حجاب کرنے والی بچیاں، رمضان میں روزہ رکھنے والے بچے اور مساجد جانے والے طلبہ بھی شامل ہیں، جبکہ بہت سے بچے اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
25 اگست کو تعلیمی بورڈ کے اجلاس کے اختتام پر دومانوفسکی نے اپنی جانب سے پوسٹ شیئر کیے جانے پر عوامی طور پر معذرت کی۔ تاہم امریکی شیعہ مسلمانوں کی تنظیم نے واضح کیا کہ معذرت کے باوجود معاملہ ختم نہیں ہوا۔
تنظیم نے کہا کہ مسلمان برادری، بالخصوص شیعہ خاندان، اس پوسٹ اور اس کے مندرجات کی تائید پر اب بھی شدید تشویش میں مبتلا ہیں، کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ اسلام سے خوف زدہ ہونا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق صرف معذرت سے مسلمان خاندانوں کو پہنچنے والے نقصان اور تعلیمی حکام پر متاثر ہونے والے اعتماد کو فوری طور پر بحال نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی شیعہ مسلمانوں کی تنظیم نے مزید کہا کہ وہ شیعہ خاندانوں کے خدشات اور مؤقف سنتی رہے گی اور بالٹی مور کاؤنٹی کے سرکاری اسکولوں اور منتخب عہدیداروں کے آئندہ اقدامات پر نظر رکھے گی۔ تنظیم کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ معذرت کے بعد مسلمان طلبہ اور ان کے خاندانوں کا اعتماد دوبارہ کیسے بحال کیا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ